اک نام کی اُڑتی خوشبو میں اک خواب سفر میں رہتا ہے اک بستی آنکھیں ملتی ہے اک شہر نظر میں رہتا ہے کیا اہلِ ہنر، کیا اہلِ شرف سب ٹکڑے ردی کاغذکے اس دور میں ہے وہ شخص بڑا جو روز خبر میں رہتا ہے پانی میں … more →
Ye Zindagiwrote 5 months ago: کمرہ امتحان بے نگاہ آنکھوں سے دیکھتے ہیں پرچے کو بے خیال ہاتھوں سے ان بنے سے لفظوں پر اُنگلیاں … more →
wrote 5 months ago: دل کے دریا کو کسی روز اُتر جانا ہے اتنا بے سمت نہ چل، لوٹ کے گھر جانا ہے اُس تک آتی ہے تو ہر چیز ٹھہ … more →
wrote 8 months ago: اک نام کی اُڑتی خوشبو میں اک خواب سفر میں رہتا ہے اک بستی آنکھیں ملتی ہے اک شہر نظر میں رہتا ہے کیا … more →
wrote 9 months ago: آئینوں میں عکس نہ ہوں تو حیرت رہتی ہے جیسے خالی آنکھوں میں بھی وحشت رہتی ہے ہر دم دُنیا کے ہنگامے گھ … more →
wrote 9 months ago: دل کے دریا کو کسی روز اُتر جانا ہے اتنا بے سمت نہ چل، لوٹ کے گھر جانا ہے اُس تک آتی ہے تو ہر چیز ٹھہ … more →
wrote 9 months ago: اُس نے آہستہ سے جب پُکارا مجھے جُھک کے تکنے لگا ہر ستارا مجھے تیرا غم، اس فشارِ شب و روز میں ہونے دی … more →
wrote 9 months ago: … more →
wrote 3 years ago: ھم لوگ نہ تھے ایسے ہیں جیسے نظر آتے اے وقت گواہی دے ھم لوگ نہ تھے ایسے یہ شہر نہ تھا ایسا یہ روگ نہ … more →