<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><!-- generator="wordpress.com" -->
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	>

<channel>
	<title>خبر-پر-نظر &amp;laquo; WordPress.com Tag Feed</title>
	<link>http://wordpress.com/tag/خبر-پر-نظر/</link>
	<description>Feed of posts on WordPress.com tagged "خبر-پر-نظر"</description>
	<pubDate>Fri, 25 Jul 2008 04:41:34 +0000</pubDate>

	<generator>http://wordpress.com/tags/</generator>
	<language>en</language>

<item>
<title><![CDATA[سرکاری اُردو ٹی وی چینل]]></title>
<link>http://shuaibu.wordpress.com/2006/08/14/%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a7%d9%8f%d8%b1%d8%af%d9%88-%d9%b9%db%8c-%d9%88%db%8c-%da%86%db%8c%d9%86%d9%84/</link>
<pubDate>Mon, 14 Aug 2006 11:38:17 +0000</pubDate>
<dc:creator>shuaib</dc:creator>
<guid>http://shuaibu.wordpress.com/2006/08/14/%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a7%d9%8f%d8%b1%d8%af%d9%88-%d9%b9%db%8c-%d9%88%db%8c-%da%86%db%8c%d9%86%d9%84/</guid>
<description><![CDATA[ہر کسی کو اپنی زندگی میں کچھ کرنے کی خواہش ہوتی ہے ـ ہما]]></description>
<content:encoded><![CDATA[<p align="right">ہر کسی کو اپنی زندگی میں کچھ کرنے کی خواہش ہوتی ہے ـ ہمارے راشٹرپتی عالیجناب <a target="_blank" href="http://presidentofindia.nic.in/govern.html" title="عالیجناب عبدالکلام صاؘ?">عبدالکلام</a> صاحب، جنہیں بچپن سے اپنے وطن کی خدمت کرنے کی خواہش تھی اور وہ اپنے نیک مقصد میں کامیاب رہے ـ اور مجھے بچپن سے گرافک کا شوق تھا، اِس میں ڈپلومہ کے بعد آج صبح و شام صرف گرافک پر کام کرتا ہوں ـ اسکے علاوہ ایک اور خواہش بھی ہے کہ اگر دولت ملے تو مابدولت اپنے ٹیلیویژن چینلس بھی براڈکاسٹ کریں گے اور ایک اُردو ٹی وی چینل بھی ہوگا ـ پتہ نہیں مابدولت کا یہ خواب کب پورا ہوگا ـ یہ بہت خوشی کی بات ہے کہ آج آخرکار بھارت سرکار نے اُردو ٹیلیویژن چینل <a target="_blank" href="http://www.ddindia.com/" title="Doordarshan">دُوردرشن اُردو</a> شروع کرنے کا <a href="http://www.exchange4media.com/e4m/news/Newfullstory.asp?section_id=1&#38;news_id=22197&#38;tag=16924">باقاعدہ اعلان</a> کردیا ـ جب بنگلور میں نوکری کر رہا تھا، تو ہمارے باس نے بھی اُردو ٹی وی چینل شروع کرنے کی سوچی اور تبھی ہم نے خوشی اور جوش میں آکر ملٹی میڈیا میں ڈپلومہ کیلئے جوائن کرلیا ـ مگر اسپانسرس میں اختلاف ہوگیا کہ اِس ٹی وی چینل کو خالص اسلامی بنائیں گے کیونکہ بھارت میں ایک بھی اسلامی ٹی وی چینل نہیں ہے، اور کچھ دوسرے اسپانسرس بھی اڑ گئے چونکہ اُردو چینل کا بیڑا اُٹھایا ہے تو یہ خالص اُردو انٹرٹینمنٹ چینل ہی بنے گا کیونکہ اسلامی چینل میں کوئی اشتہار نہیں دیتا اور یہ چینل اشتہار کے بغیر نہیں چلتا ـ اور پھر وہ ٹیلیویژن چینل شروع تو نہیں ہوا مگر ہمارا ملٹی میڈیا ڈپلومہ کمپلیٹ ہوگیا اور دل میں ٹھان لی کہ مابدولت کے پاس کچھ دولت آجائے تو پھر اُردو تو کیا، بھارت کے سبھی زبانوں میں اپنا ٹیلیویژن چینل ہوگا ـ اِس سے پہلے کہ ہم اپنا اُردو ٹی وی چینل شروع کرتے بھارت سرکار ہم سے آگے نکل گئی اور 15 اگست 2006 سے ’’دُوردرشن اُردو‘‘ براڈکاسٹ ہونے کی خوشخبری سنائی ـ اب تو ہم اِس سرکاری چینل کو اپنا ہی سجھیں گے ـ</p>
]]></content:encoded>
</item>
<item>
<title><![CDATA[اپنی خبر آپ]]></title>
<link>http://shuaibu.wordpress.com/2006/08/10/%d8%a7%d9%be%d9%86%db%8c-%d8%ae%d8%a8%d8%b1-%d8%a2%d9%be/</link>
<pubDate>Thu, 10 Aug 2006 09:32:45 +0000</pubDate>
<dc:creator>shuaib</dc:creator>
<guid>http://shuaibu.wordpress.com/2006/08/10/%d8%a7%d9%be%d9%86%db%8c-%d8%ae%d8%a8%d8%b1-%d8%a2%d9%be/</guid>
<description><![CDATA[اخبار کا نام: روز نامہ انقلاب
مقام: ممبئی
زبان: اُردو
کل ]]></description>
<content:encoded><![CDATA[<p align="right">اخبار کا نام: <a target="_blank" href="http://inquilab.com" title="Urdu Newspaper from Mumbai">روز نامہ انقلاب</a><br />
مقام: <strong>ممبئی</strong><br />
زبان: <strong>اُردو</strong></p>
<p align="right">کل کے اخبار میں شہہ سُرخی:  <strong>’’حزب اللہ کا اسرائیل پر کامیاب ترین حملہ‘‘</strong></p>
<p align="right"><em>(چونکہ یہ اخبار گِف فارمیٹ میں خبریں شائع کرتا ہے، سُرخی کا لِنک نہیں ملا)</em></p>
<p align="right">
<strong>تبصرہ:</strong><br />
بہت پہلے اسی اخبار میں ایک سرخی پڑھی ’’اسرائیل کے حملے میں پانچ معصوم فلسطینی شہید‘‘ ـ یہاں رہتے ہوئے عرصہ ہوگیا ابھی تک کسی بھی فلسطینی کو معصوم نہیں پایا، اگر فلسطینیوں کو معصوم لکھا جائے تو ضروری ہے کہ سبھی انسانوں کو معصوم لکھا جائے ـ یہی فلسطینی اگر اسرائیلیوں کو مارے تو وہ مرے اور اسرائیلی انہیں ماریں تو یہ شہید کہلائے کیونکہ فلسطینی چند لوگوں کی نظر میں آج بھی معصوم ہیں ـ ویسے ہی حزب اللہ نام کا گروہ ساری دنیا کیلئے دہشت گرد گروپ ہے اور چند لوگ تو انہیں مجاہدین تصور کرتے ہیں بھلے اُنکا مقصد کچھ بھی ہو، یہ اپنے فائدے کیلئے لڑیں اور دوسروں کو ماریں دنیا بھر میں بدامنی پھیلائیں پھر بھی ایک خاص طبقے کیلئے مجاہد ہی کہلائیں گے حالانکہ اِن سے رتّی بھر فائدے کی امید نہیں ـ اِنکے گروہ کا نام حزب ’’اللہ‘‘ معنی کچھ بھی ہوں مگر مقصد کچھ اور، تبھی تو عرب ممالک کا بھی اِس گروہ سے اختلاف ہے ـ القاعدہ والوں نے جو وعدے اور دعوؤں کے ساتھ بلند بانگ نعرے لگائے تھے، دنیا دیکھ چکی ہے کہ اُنہیں کس طرح منہ کی کھانی پڑی ـ اگر القاعدہ گروہ حق پر ہوتا تو آج امریکہ القاعدہ والوں کے تلوے چاٹتے نظر آتا ـ</p>
<p align="right">پوری عرب دنیا خاموش ہے، اور اِس اخبار کی سُرخی شاید ایک خاص طبقے کو خوش کرنے کیلئے چھاپی تھی ـ آج تک ’’حزب اللہ‘‘ کا تعارف نہ تو کہیں پڑھنے کو ملا اور نہ سُنا، اِس گروہ کی تعریف میں صرف اتنا معلوم ہے کہ وہ اسرائیل کا کٹّر دشمن ہے، اسرائیل کے آرام میں خلل ڈالتا ہے ـ انکے گروہ کا عربی نام اتنا پیارا کہ اسرائیل کے ساتھ اٹکھیلیاں کھیلنے والے کو بھی مجاہد کے القاب سے نواز دیا ـ لبنان کے تازہ بُرے حالات کا ذمہ دار اسرائیل سے زیادہ حزب اللہ گروہ صاف دکھائی دیتا ہے ـ اگر حزب اللہ گروپ حق پر ہوتا تو آج صرف عرب ممالک ہی نہیں بلکہ ساری دنیا حزب اللہ کی حامی ہوتی ـ اپنے مفاد کیلئے عوام کا لہو بہانے والے مجاہد نہیں کہلاتے ـ اخبار کی سُرخی’’حزب اللہ کا اسرائیل پر کامیاب ترین حملہ‘‘ یہ کوئی خوش آئند بات نہیں، کیونکہ دوسرے ہی دن اِس اخبار کی سُرخی کچھ یوں بھی ہوسکتی ہے: ’’حزب اللہ کے جواب میں اسرائیل کا لبنان پر سب سے بدترین حملہ‘‘  وغیرہ ـ اخبار کا کام ہے بغیر کسی طرفداری کے خبریں چھاپے، اخبار کسی ایک خاص طبقے کو خوش نہیں کرسکتا، اگر اخبار کی خبریں بھی جانبدار رہیں تو وہ اخبار ہر کسی کیلئے خاص نہیں ـ</p>
]]></content:encoded>
</item>
<item>
<title><![CDATA[پہلا ہندی بلاگر میٹ]]></title>
<link>http://shuaibu.wordpress.com/2006/07/18/%d9%be%db%81%d9%84%d8%a7-%db%81%d9%86%d8%af%db%8c-%d8%a8%d9%84%d8%a7%da%af%d8%b1-%d9%85%db%8c%d9%b9-2/</link>
<pubDate>Tue, 18 Jul 2006 14:17:00 +0000</pubDate>
<dc:creator>shuaib</dc:creator>
<guid>http://shuaibu.wordpress.com/2006/07/18/%d9%be%db%81%d9%84%d8%a7-%db%81%d9%86%d8%af%db%8c-%d8%a8%d9%84%d8%a7%da%af%d8%b1-%d9%85%db%8c%d9%b9-2/</guid>
<description><![CDATA[بلاگنگ کا شوق ایسا کہ فضول کاموں سے فرصت ملجاتی ہے، کوئ]]></description>
<content:encoded><![CDATA[<p>بلاگنگ کا شوق ایسا کہ فضول کاموں سے فرصت ملجاتی ہے، کوئی بلاگر دن میں چار پوسٹ لکھ دے اور کوئی ہفتے میں ایک بار ـ کئی بلاگرز ایسے بھی ہیں جو روزانہ لکھنے کے باوجود کسی وجہ سے بلاگنگ کو ہی خیرباد کہہ کر ہمیشہ کیلئے لکھنا چھوڑ دیا ـ آج انٹرنیٹ پر دیکھا جائے تو ہندی بلاگز کی تعداد 600 سے تجاوز ہے مگر افسوس کہ روزانہ لکھنے والوں کی تعداد 200 بھی نہیں ـ ہندی بلاگ کمیونٹی کیلئے یہ نہایت خوشی کی بات ہے کہ پچھلے دنوں مائکروسافٹ انڈیا نے دو بلاگرز کو بہترین ہندی بلاگرز کا پُرسکار دیا اور اسی کے ساتھ بھارتی اخباروں نے ہندی بلاگ کمیونٹی پر مختلف مضامین لکھے اور کمیونٹی کے کارناموں کو خوب سراہا ـ دوسری طرف CNBC انڈیا ٹیلیویژن نے اپنے لائیو نشریات میں ہندی بلاگنگ پر پروگرام بھی نشر کئے جس میں بہت سارے ہندی بلاگرز بھی مدعو تھے ـ</p>
<p>ہندی بلاگرز میٹ</p>
<p>ہندی بلاگ کمیونٹی کے روشن ستارے جناب <a href="http://www.jitu.info/merapanna">جتیندر چودھری</a> (کمیوٹر پروگرامر، کویت) کی کاوشوں سے گذشتہ ہفتہ پہلی بار ’’ہندی بلاگر میٹ‘‘ کا اہتمام جئے پور میں کیا، جس میں بھارت کے علاوہ مختلف ممالک سے ہندی بلاگرز نے شرکت کی اور خوب سیر سپاٹہ بھی کیا یعنی اس جوڑ کو ’’ہندی بلاگرز موج مستی میٹ‘‘ کا نام دیا ہے ـ جناب <a href="http://www.jitu.info/merapanna">امیت گُپتا</a> (ہندی کمپیوٹنگ ماسٹر) نے اِس میٹ کی صدارت کی ـ سبھی بلاگرز نے پہلی بار ایکدوسرے ساتھی بلاگرز کو دیکھ کر بیحد خوشی کا اظہار کیا اور دہلی سے موج مستی کرتے ہوئے تاریخی شہر جئے پور پہنچے جہاں ہندی بلاگنگ، ہندی کمپیوٹنگ، ہندی کے نئے یونیکوڈ فونٹس، ہندی ادب و شاعری اور ہر سال ہندی بلاگرز کا باقاعدہ جوڑ وغیرہ پر بحث چلی ساتھ ہی عملی کام کیلئے ایک باقاعدہ ٹیم کو بھی تشکیل دیا جسکی تفصیل جتیندر چودھری صاحب کے بلاگ پر خود اپنے مزاحیہ انداز میں لکھا ہے اور بھی تفصیل <a href="http://www.flickr.com/photos/amit_gupta/sets/72157594193810373/">یہاں</a> اور <a href="http://www.jitu.info/gallery/v/jaipurmeet/">یہاں</a> تصویروں اور ویڈیو کے ساتھ موجود ہے ـ</p>
<li><a href="http://akshargram.com/sarvagya/index.php/Main_page">ہندی کمیونٹی</a></li>
<li><a href="http://akshargram.com/sarvagya/index.php/Main_page">ہندی پلانٹ</a></li>
<li><a href="http://www.akshargram.com/paricharcha/">ہندی فورم</a></li>
<li><a href="http://akshargram.com/sarvagya/index.php/Welcome">ہندی بلاگرز </a></li>
<p>چند ہندی چِٹّھے (بلاگز)</p>
<p><a href="http://www.jitu.info/merapanna">Mera Panna</a> , <a target="_blank" href="http://chittha.kaulonline.com/">Edher Udher ki</a> , <a href="http://itsme.wordpress.com/">Duniya meri Nazar se </a></p>
<p><a href="http://www.hindiblogs.com/hindiblog/">HindiBlog</a> , <a href="http://www.hindini.com/hindini/">Hindini</a> , <a href="http://www.ashish.net.in/khalipili">Jugadi Links</a> , <a href="http://www.hindini.com/fursatiya/">Phursatia</a> , <a href="http://ms.pnarula.com/">Mirchi Saith</a></p>
<p><a href="http://www.shashisingh.co.in/mumbaiblogs">Mumbai Blog</a> , <a href="http://udantashtari.blogspot.com/">Udan Teshtri</a> , <a href="http://shuaib-hindi.blogspot.com">Shuaib-hindi</a></p>
<p><a href="http://www.kalpana.it/hindi/blog/">Kalpana</a> , <a href="http://aaina1.blogspot.com/">Aina</a> , <a href="http://hi.shunya.in/site/rss?lang=hi">Shunya</a> , <a href="http://padmaja.blogspot.com/">Kahi Unkahi</a></p>
]]></content:encoded>
</item>

</channel>
</rss>
